اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے کورونا کے تیزی سے پھیلنے کے خدشہ کے پیش نظر ملک بھر میں احتیاطی تدابیر پر سکتی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود وزیراعظم آفس سے روزانہ کی بنیاد پر اس معاملے کی نگرانی کریں گے جس علاقے یا شعبہ میں بھی ایس او پیز کی خلاف ورزی ہوئی اسے فوری طور پر بند کر دیا جائے گا، کورونا کی وباءکے خلاف برسرپیکار ہیلتھ ورکرز جہاد کر رہے ہیں، حکومت ان کے لئے خصوصی پیکج دے گی، میری ٹیم نے تمام وفاقی اکائیوں اور ماہرین سے مکمل مشاورت کے بعد موثر حکمت عملی وضع کی اور بلا جواز تنقید کے باوجود حکومت کسی دباﺅ میں نہیں آئی۔ آج پوری دنیا کو احساس ہو گیا ہے کہ مکمل لاک ڈاﺅن مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ جمعرات کو ملک میں کورونا کی صورتحال اور وباءسے نمٹنے کے لئے حکومتی اقدامات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس بات کا اندازہ تھا کہ وقت کے ساتھ کورونا کے متاثرین اور اس وباءسے ہونے والی اموات میں اضافہ ہو گا لیکن اس حوالے سے اپوزیشن لیڈرز کی لا جواز تنقید قابل افسوس ہے، اپوزیشن کشمیر کے مسئلہ کی طرح کورونا کے ایشو کو بھی اپنی کرپشن چھپانے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے جس نے صورتحال کا بروقت اور درست تجزیہ کرتے ہوئے تمام وفاقی اکائیوں اور صحت کے ماہرین کے ساتھ مشاورت کے بعد موثر حکمت عملی وضع کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا معاملہ امریکہ، یورپ یا چین سے مختلف تھا، ہمیں اپنے لوگوں کو کورونا کی وباءسے بچانے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کے معاشی تحفظ کو بھی یقینی بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے مکمل لاک ڈاﺅن کے حوالے سے تنقید اور دباﺅ برداشت کیا لیکن آج پوری دنیا اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ مکمل لاک ڈاﺅن اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں فوری طورپر مکمل لاک ڈاﺅن کیا گیا، اس حوالے سے ایک انٹرنیشنل سروے میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مکمل لاک ڈاﺅن سے 84 فیصد غریب گھرانوں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے، 34 فیصد ایسے گھرانے ہیں جو اس صورتحال میں دو ہفتے بعد شدید مشکلات کا شکار ہوں گے، 3 کروڑ بھارتی نوجوان روزگار سے محروم ہو گئے ہیں جبکہ امیر طبقہ کو لاک ڈاﺅن سے فرق نہیں پڑا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ پہلے دن سے یہی کہہ رہے ہیں کہ مکمل لاک ڈاﺅن ہمارے جیسے ملکوں کے لئے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا، اس لئے ہم نے سمارٹ لاک ڈاﺅن کی حکمت عملی اختیار کی ہے اور کمزور طبقات کو ریلیف دینے کے لئے 120 ارب روپے کا پیکج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کریں کیونکہ آنے والے دنوں میں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے جس سے اموات بھی بڑھ سکتی ہیں۔ وزیراعظم عمران کان نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ملک بھرمیں ایس او پیز پر عملدرآمد کی خود نگرانی کریں گے اور اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر معلومات اکٹھی کی جائیں گی، گلیوں، محلوں، مارکیٹوں، فیکٹریوں، مساجد، ٹرانسپورٹ، پارکوں اور دفاتر سمیت ہر علاقے اور شعبے کی مانیٹرنگ ہو گی، جہاں ایس او پیز کی خلاف وزی ہوئی اس پر فوراً کارروائی ہو گی اور متعلقہ علاقے یا شعبہ کو بند کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سخت ایکشن لے گی اور کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کے رضا کار اس حوالے سے انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر برسرپیکار ہیلتھ ورکرز کے مسائل کا احساس ہے، ان کی سہولت کے لئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور ان کے لئے خصوصی پیکج بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں ڈیٹا منیجرز مقرر کئے جائیں گے جو وہاںمریضوں اور سہولیات کی صورتحال کے بارے میں درست اور بروقت معلومات فراہم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کورونا سے بچاﺅ کے لئے تمام طبی سہولیات اور سامان کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے، پاکستان میں جب کورونا کیسز سامنے آنا شروع ہوئے تو اس وقت دو لیبارٹریاں تھیں اور اب یہ تعداد 107 ہو گئی ہے جبکہ ماہانہ 12 لاکھ ٹیسٹ کرنے کی استعداد حاصل کی جا چکی ہے۔ اسی طرح وینٹی لیٹرز کی تعداد 4800 ہو گئی ہے جبکہ 1400 وینٹی لیٹرز کے آرڈرز بھی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی یو بیڈز کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ متعلقہ عملہ کی تربیت کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کی خاطر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی، مشکل وقت سے بچنے کے لئے ہر فرد کو ذمہ دارانہ کردار اد اکرنا چاہیے۔

ALSO READ  Opposition should reconsiders their political strategy: Governor

وی این ایس، اسلام آباد