اسلام آباد ، 12 جون (اے پی پی): آئندہ مالی سال 2020-21ءکا 7137 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کردیا گیا،  بجٹ  میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2874 ارب روپے کا ریونیو صوبوں کو منتقل کیا جائے گا، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 7 فیصد رہنے کا امکان ہے، سماجی تحفظ کا پروگرام 187 ارب سے بڑھا کر 208 ارب روپے کر دیا گیا ہے ، توانائی، خوراک اور دیگر شعبوں میں سبسڈی کےلئے 179 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2020-21ءپیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا ان کیلئے بڑے اعزاز اور مسرت کی بات ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی مثالی قیادت میں اگست 2018ءمیں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ہم نے مشکل سفر سے ابتدا کی اور معیشت کی بحالی کیلئے اپنی کاوشیں شروع کیں تاکہ وسط مدت میں معاشی استحکام اور شرح نمو میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معاشی پالیسیوں کا مقصد اس وعدے کی تکمیل ہے جو ہم نے  “ نیا پاکستان”  بنانے کیلئے عوام سے کر رکھا ہے۔

 انہوں نے  کہا کہ  بجٹ  میں محصولات کا ہدف 6573 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، سیلز ٹیکس کی شرح 14 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کر دی گئی، سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 2روپے سے کم کرکے 1روپے 75 پیسے کردی گئی، پاکستان میں بنائے جانے والے موبائل فونز پر سیلز ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، درآمدات پر انکم ٹیکس کی شرح کو خام مال پر 5.5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد اور مشینری پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کیا گیا ہے، کم سے کم تنخواہ 15 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کردی گئی،موٹرسائیکل رکشہ اور 200 سی سی تک موٹرسائیکل پر ایڈوانس ٹیکس ختم کردیا گیا، ٹیکس ادا نہ کرنے والے ایسے افراد جو سکول کی سالانہ فیس 2 لاکھ روپے سے زائد ادا کرتے ہیں ان سے سو فیصد زائد ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے، ڈبل کیبن پک اپ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے، انرجی ڈرنکس پر ایف ای ڈی 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد، درآمدی سگریٹس، بیڑی، سگار اور تمباکو کی دیگر اشیاءپر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ کوویڈ 19 سے متعلقہ صحت کے ساز و سامان کی درآمد پر جاری استثنیٰ مزید تین ماہ کے لئے توسیع دی گئی ہے، آئندہ مالی سال کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو کو -0.4 فیصد سے بڑھا کر 2.1 فیصد پر لایا جائے گا، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کو 4.4 فیصد تک محدود رکھا جائے گا، افراط زر کی شرح 9.1 فیصد سے کم کرکے 6.5 فیصد تک لائی جائے گی، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 25 فیصد تک کا اضافہ کیا جائے گا،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنروں کی پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

وی  این ایس،  اسلام آباد