پشاور۔16 جون(اے پی پی): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے منگل کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔

اس اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے بتایا کہ صوبے کے خود مختار تدریسی ہسپتالوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اوران ہسپتالوں کے ملازمین کے مسائل کے حل کے لئے کابینہ نے ایم ٹی آئی ترمیمی ایکٹ 2020 کی منظوری دیدی۔ ترامیم کے تحت ایم ٹی آئی ملازمین کی ملازمتوں کو تحفظ دینے کے لئے ایپیلیٹ ٹریبونل کے قیام، عبوری بورڈ آف گورنرزکی تقرری ، بورڈ آف گورنرز اور سرچ اینڈ نامینیشن کونسل کی تعیناتی اور برخاستگی کے طریقہ کار کا تعین کیا گیاہے۔ اس کے علاوہ کابینہ نے ایم ٹی آئی کے ان تمام سرکاری ملازمین کو پنشن دینے کے طریقہ کار کی بھی منظوری دیدی جو ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت پنشن کے حقدار ہےں، ان ملازمین کو پنشن کی ادائیگی صوبائی حکومت کریگی۔ اس فیصلے سے تقریبا 400 سینئر ڈاکٹرزاور ہیلتھ سٹاف کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو جائیگا۔ مشیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ اجلاس میں محکمہ انرجی اینڈ پاور کو 188 میگا واٹ ناران ہائیڈل پاور پراجیکٹ اور 96 میگا واٹ بٹہ کنڈی ہائیڈل پاور پراجیکٹ پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کام شروع کرنے کے سلسلے میں ایک بین الاقوامی کمپنی آئی ایف سی کی کنسلٹنسی خدمات حاصل کرنے کے لئے کیپرا رولز میں استثنیٰ کی منظوری دےدی گئی۔ کابینہ نے صوبہ خیبر پختونخوا بشمول ضم شدہ اضلاع میں تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت کے لئے کے پی او جی سی ایل کو پرائیوٹ فرمز کے ساتھ 20 فیصد تک شراکت داری کی منظوری دی۔ انرجی اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کے اندازے کے مطابق اس میں تقریبا 40 ارب روپے تک کی سرمایہ کاری کرنی پڑیگی جس سے ایک مختاط اندازے کے مطابق جب پیداور شروع ہوگی تو تقریبا صوبے کو 7 سے13 ارب روپے تک کی سالانہ محصولات کی مد میں حاصل ہونگے۔ اسی طرح کابینہ نے مختلف کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے خیبرپختونخوا آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ آرڈیننس 2020 کے مسودے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے اس مسودے کو مزید مؤثر اور بہتر بنانے کے لئے کابینہ ممبران شوکت یوسفزئی، سلطان محمد خان، عبدالکریم اور وزیرزادہ پر مشتمل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں کابینہ نے ٹرانز پشاور کمپنی کے بورڈ آف ڈائیریکٹر ز کے لئے بطور پرائیویٹ ممبر محمد اشفاق خٹک کے نام کی بھی منظوری دیدی۔ صوبے کے چھ سرکاری یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کا معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا تاہم کابینہ نے اس سے مسترد کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کے مطابق نئے وائس چانسلرز تعینات کرنے اور فی الوقت کے لئے پرو وائس چانسلرز کو ذمہ داریاں تفویض کرنے کی ہدایت کی۔

ALSO READ  3,262 new Coronavirus cases reported; 55 deaths in past 24 hours

وی  این ایس، پشاور