اسلام آباد ، 9 جون (اے پی پی): ایوان بالاءکی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین سینیٹر مصطفےٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ تعلیم انتہائی اہم شعبہ ہے اور ملک و قوم کا روشن مستقبل اس سے وابستہ ہے تاہم کورونا وباءنے اس شعبہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

 پارلیمنٹ ہاوس میں کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر اراکین نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں، جہاں زندگی کے دیگر شعبے دباو میں آئے ہیں وہاں تعلیم کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے، اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کےلئے تعلیمی اداروں کا وسائل سے لیس ہونا انتہائی لازمی ہے تاہم ایچ ای سی کے اہم منصوبوں کے فنڈز روک دیئے گئے ہیں، معیار تعلیم بہتر کرنے اور منصوبوں کی تکمیل کیلئے بھرپور فنڈنگ یقینی بنائی جائے۔

 سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ایچ ای سی نے اچھا کام کیا ہے لیکن طلباءکی تعلیم کیلئے ضروری ہے کہ ان کی فنڈنگ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی سکولنگ کے اقدام میں دور دراز کے علاقوں میں لوڈ شیدنگ اور نیٹ ورکنگ کے مسائل ہیں۔

 سینیٹر شاہین خالد بٹ نے کہا کہ آن لائن کلاسز کا تصور امریکہ، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں پہلے سے موجود ہے اس سے بھی بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے تاہم ایچ ای سی کی فنڈنگ کے مسائل بھی حل کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔

سینیٹر کشو بائی نے کہا کہ تعلیم کیلئے فنڈنگ فراہم کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے اور اس پر بچوں کے مستقل کا انحصار ہے۔ ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے، صوبہ بلوچستان مین نیٹ ورک کے مسائل حل کئے جائیں۔

 چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ان غیر معمولی حالات میں کمیٹی نے طلباءکو درپیش مسائل کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کے حل پر زور دیا۔ کمیٹی نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو پچھلے چند سال سے فنڈنگ کے مسائل درپیش ہیں۔ اراکین نے کہا کہ اس مسئلہ کو ایوان میں اٹھایا جائے گا۔ کمیٹی نے آئندہ اجلا س میں سیکرٹری فنانس کو طلب کر لیا تاکہ ایچ ای سی کو فنڈز کی فراہمی کے حوالہ سے معاملہ کو زیر غور لایا جا سکے۔

 کمیٹی نے کہا کہ سٹوڈنٹ پیکیج یا ایجوکیشن پیکیج وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے اس بات کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی کہ کمیٹی کے نوٹس میں یہ بات آئی ہے کہ وائٹ لسٹ تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سیکرٹری وزارت داخلہ سے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں اس سلسلہ میں تفصیلی موقف لیا جائے گا تاہم کمیٹی نے حکومت پر زور دیا کہ اس سلسلہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھرنے کہا کہ بعض طلباءکو جامعات سے محض ا س لئے نکالا گیا کہ انہوں نے اپنے مسائل کے حوالہ سے آواز اٹھائی۔ کمیٹی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ اس مسئلہ کو دیکھے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ کمیٹی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین، پی ٹی اے کے حکام اور طلباءکے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔

کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز محمد علی سیف، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، شاہین خالد بٹ، محمد عثمان خان کاکڑ اور کشو بائی کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کے چیئرمین، پی ٹی اے اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وی این ایس،   اسلام آباد