لاہور16 جون(اے پی پی):  صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں محمد اسلم اقبال نے آج کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ ٹیلی میڈیسن کا دورہ کیا وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے شعبہ ٹیلی میڈیسن کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں کورنا وائرس کے پھیلتے ہوئے اثرات کے پیش نظر عوام الناس کو علاج معالجہ کی سہولیات اور رہنمائی میسر کرنے کی غرض سے یونیورسٹی میں ٹیلی میڈیسن کا  شعبہ قائم کیا گیا جسمیں ماہرین عوام کو سکائپ، لینڈ لائین اور واٹس ایپ کے ذریعے مریضوں کو گھر بیٹھے راہنمائی فراہم کرر ہے ہیں۔ ڈاکٹرز روزانہ صبح 8  بجے سے شام 3 بجے تک مریضوں کو رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پرسینکڑوں لوگوں کو اس شعبہ سے راہنمائی فراہم کی جارہی ہے وائس چانسلر نے یونیورسٹی کی کار کردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔

        صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے ٹیلی میڈیسن کا شعبہ قائم کر کے سبقت لی ہے جس پر میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل، پروفیسر صاحبان اور انتظامیہ کو مبارک باد دیتا ہوں میں سمجھتا ہو کہ یونیورسٹی نے دکھی انسانیت کی خدمت کا یہ اہم شعبہ قائم کر کے قابل ستائش کارنامہ سر انجام دیا ہے ایسے شعبے میں صوبے کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی قائم ہونے چاہیں۔  انہوں نے کہا ٹیلی میڈیسن  کے  اس اہم شعبے کا قیام وقت کی ضرورت تھی اور یونیورسٹی نے ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے مریضوں کوکرب اور پریشانی سے نکالنے کے لئے ایک زبردست اقدام اٹھایا ہے۔ صوبائی وزیر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز، نرسز  اور پیرامیڈیکس کورونا کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کے سپاہی ہیں  یہ اس وقت مریض کے پاس کھٹرے ہوتے ہیں جب ان کے اپنے مریض سے سماجی فاصلہ رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اپنی زند گی کی پرواہ کئے بغیر یہ حقیقی مسیحا کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کے حوالے سے ان کی خدمات قابل ستائش ہیں ہمیں اپنے ان مسیحاؤں پر فخر ہے۔ دنیا بھر میں ہمارے ڈاکٹروں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لئے طبی اور معاشی ماہرین کی مشاورت سے تمام فیصلے کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے اس وبا سے نمٹے کے لئے 13 ارب روپے  سے زائد  رقم مختص کی ہے۔  زندگی کا کوئی نعم البدل نہیں تاہم حکومت نے وبا کے دوران جاں بحق ہونے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکس کے لئے بہترین پیکج دیا ہے جو ان کی  خدمات کا اعتراف ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے کہ لوگ ابھی تک کورونا وائرس کو ایک سازش سمجھ رہے ہیں میں واضع کر دینا چاہتاہوں یہ سازش نہیں بلکہ ایک خطرناک وبا ہے اس کی ابھی کوئی ویکسین بھی دریافت نہیں ہوئی اس وبا کے ساتھ صرف احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہی لڑا جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا لاک ڈاون مشکل ترین کام ہے جس کے لئے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر نا پڑتا ہے راشن کا بندوبست اور فورس کو تعینات کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان جیسا غریب ملک طویل لاک ڈاون کا متحمل نہیں ہو سکتا لاک ڈاون جیسے فیصلے اپنے ملک کے حالات کو سامنے رکھ کر کئے جاتے ہیں حکومت طبی اور معاشی ماہرین کی مشاورت سے تمام فیصلے کر رہی ہے لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں تو کورونا کے پھیلاو کو روکا جا سکتا ہے۔ بعدا زاں صوبائی وزیر نے شعبہ ٹیلی میڈیسن کے مختلف ڈیسک کا دورہ  کیا اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے لائیو آنے والی کالز اور ان پر عمل درآمد کے بارے میں بتایا۔

وی این ایس،لاہور