اسلام آباد ، 12 جون (اے پی پی): سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے ملک میں پٹرول کے بحران کے معاملہ کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے سے متعلق وفاقی حکومت کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ چیئرپرسن اوگرا نے کہا ہے کہ تیل سپلائی کرنے والی کمپنیاں 20 دن کا اپنی سیل کے مطابق پٹرولیم مصنوعات سٹور کرنے کی پابند ہیں اور 20 دن کی سیل کی استعداد کو سٹور کرنے کی صلاحیت رکھنے والی کمپنیوں کو لائسنس جاری کیا جاتا ہے، ملک میں 34 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔ 6 کمپنیوں کو سپلائی کم کرنے پر جرمانے بھی کئے گئے۔

 سینٹ قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کے حالیہ بحران اور خاص طور پر اپریل، مئی اور جون میں ہونے والے بحران کی وجہ سے صارفین کو درپیش مسائل، پیٹرولیم مصنوعات کی ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں میں ذخیرہ کی صورتحال، ہائی اوکٹین کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے کی وجوہات اور 4 جون2020ءمیں ایچ اوبی سی ایس کی قیمتوں میں کی گئی کمی کے علاوہ قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کی6 جنوری2020ءکو ہونے والے اجلاس میں چاغی اور دالبندین میں ایئر مکس پلانٹ نصب کرنے کے حوالے سے دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

 قائمہ کمیٹی کو حالیہ پٹرولیم بحران کے حوالے سے سیکرٹری پٹرولیم و ڈی جی پٹرولیم نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں ڈیزل کا بحران نہیں پیٹرول کا بحران پیدا کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ملک میں پٹرول کی طلب میں بھی اضافہ ہو اکورونا وباءکی وجہ سے بلوچستان کے راستے سے آنے والا ایرانی 1.2 ملین میٹرک ٹن تیل بھی بند ہوا ہے۔ ملکی ضروریات کیلئے پٹرولیم مصنوعات درآمدت بھی کی جا رہی ہیں اور ملکی ریفائنریز سے بھی حاصل کیا جاتا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پٹرول 70 فیصد درآمد ہوتا ہے اور 30 فیصد ملک سے نکلتا ہے جبکہ ڈیزل 30 فیصد درآمد کیا جاتا ہے اور 70 فیصد یہاں سے نکلتا ہے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی سطح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھی مگر عوام کو ریلیف دینے کیلئے قیمتیں کم کی گئیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیز نے نقصان سے بچنے کیلئے اپنے سٹاک سے سپلائی بہت کم کر دی جس کی وجہ سے بحران پیدا ہو گیا یہ مصنوعی بحران ہے اور حکومت نے لاک ڈاون کی وجہ سے کچھ دنوں کیلئے پٹرولم مصنوعات کی درآمدات سے روکا مگر پھر اجازت دےدی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے، اوگرا، ایچ ڈی آئی پی اور دیگر متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ڈی جی آئل کی سربراہی میں ٹیمیں تشکیل دی گئیں جن میں مختلف جگہوں کی مانیٹرنگ کر کے ذخیرہ کرنے والی کمپنیوں پر چھاپے مارے۔ 9 جون کو کماری اور پورٹ قاسم بندرگاہ پر حسکول پٹرولیم لمیٹڈ گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ کے سٹورز سے 40 ملین لیٹر پٹرول پکڑا جس کی سپلائی نہیں کی گئی تھی ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے اور شیل کمپنی کے خلاف صوبائی حکومت کے پی کے نے بھی ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ ان کمپنیوں کے خلاف دیگر ایکشن بھی لئے گئے ہیں۔

 چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب نے چیئرپرسن اوگرا نے کمیٹی کو بتایا کہ تیل سپلائی کرنے والی کمپنیاں 20 دن کا اپنی سیل کے مطابق پٹرولیم مصنوعات سٹور کرنے کی پابند ہیں اور 20 دن کی سیل کی استعداد کو سٹور کرنے کی صلاحیت رکھنے والی کمپنیوں کو لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔ ملک میں 34 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔6 کمپنیوں کو سپلائی کم کرنے پر جرمانے بھی کئے گئے اور پہلی دفعہ بلک سٹور رکھنے والی کمپنیوں کو پٹرولیم مصنوعات دیگر کمپنیوں کو دینے کی اجازت بھی دی گئی۔

 سینیٹر میر محمد یوسف بادینی نے کہا کہ ملک میں جب بھی پیٹرول سستا کیا جاتا ہے تو لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہونے پر کمپنیاں دھڑا دھڑ فروخت کرتی ہیں۔ حالیہ بحران میں ہائی اوکٹین جو بہت مہنگا ہے اسے ریگولر کی جگہ فروخت کیا جارہا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ اگلے ماہ پٹرول مصنوعات میں اضافہ کا امکان ہے جس کی وجہ سے کمپنیاں سپلائی کم کر رہی ہیں۔ سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ ہمارے پٹرول پمپس ہیں، پیٹرول خریدنے کیلئے زبردستی ڈیزل خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ حالیہ بحران کی وجہ او ایم سی ایس ہیں جنہوں نے اپنی سپلائی روک دی ہے اور بہت سے پیٹرول پمپ خالی پڑے ہیں۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم پر الزامات لگائے جا رہے ہیں، وزارت کو رپورٹ دی جاتی ہے کہ کس کمپنی کے پاس کہاں کہاں کتنا ذخیرہ پڑا ہو ا ہے، جب بھی کوئی کارگو آتا ہے تو سب کو معلوم ہوتا ہے۔ حسکول کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ ہمیں درآمد کرنے سے روکا دیا گیا تھا، ہمارے تین جہاز آرہے تھے ایک کو منسوخ کرنا پڑا، دو جہازوں میں سے ایک 11 دن کھڑا رہا اور دوسرے کو 9 دن بعد خالی کرنے کی اجازت دی گئی۔ وزارت کو بارہا آگاہ کیا کہ درآمد کی اجازت دے ورنہ بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ڈیمریج کے اخراجات ہمیں علیحدہ ادا کرنا پڑے۔ صرف پی ایس او کو ایمپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور 7 مئی کو جون کیلئے درآمد کی اجازت دی گئی۔80 ہزار میٹرک ٹن کی اجازت مانگی تو 50 ہزار میٹرک ٹن کی اجازت دی گئی۔ یکم جون کو 8 دن کیلئے ذخیرہ موجود تھا اگر وقت پر درآمد کی اجازت ملتی تو بحران پیدا نہ ہوتا۔

شیل کمپنی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک کو واپس بھیجنا پڑا دو جہاز پہنچ چکے ہیں۔ اگلے دو تین روز میں بحران ختم ہو جائے گا۔ پی ایس او حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ایس او کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 420 ملین میٹرک ٹن ہے۔ ڈیزل کی طلب میں 140 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پی ایس او کی سپلائی کا حصہ 37 فیصد تھا جو 54 فیصد پر چل رہا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ لوگوں نے بحران کی وجہ سے غیر معمولی طلب میں بھی اضافہ کیا ہے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ قائمہ کمیٹی حکومت کو جے آئی ٹی بنانے کیلئے خط لکھے گئی جس کے ممبران میں غیر جانبدار افراد کے ساتھ سینیٹ قائمہ کمیٹی کے ممبران کو بھی شامل کیا جائے اور 15 دنوں میں اس حوالے سے رپورٹ فراہم کی جائے اور جو وزارت پٹرولیم کی طرف سے انکوائری کمیٹی بنائی گئی اس پر قائمہ کمیٹی کو اعتماد نہیں ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ہائی اوکٹین کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے اور 4 جون2020ءمیں ایچ او بی سی ایس کی قیمتوں میں کی گئی کمی کے معاملہ کے حوالہ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اگر ایک پرائس میکنزم دیاجائے تو دونوں پٹرولیم مصنوعات میں ایک تناسب سے کمی یا اضافہ ہوگا۔ ایچ او بی سی پر بہت زیادہ ٹیکسز اور دیگر اخراجات رکھ کر اس کی قیمت بہت زیادہ کی گئی ہے۔ اوگرا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ او ایم سیز کو خط بھی لکھا ہے کہ اس کا نوٹس لے کہ اس کو غیر معمولی رینج میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ معاملہ کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ حکومت سے سفارش کی جائے کہ اس کو یا تو ریگولیٹ کیا جائے یا ان کے خلاف سخت اقدامات لیں تاکہ اضافی پرائس کو کنڑول کیا جا سکے۔

قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کی6 جنوری2020ءکو ہونے والے اجلاس میں چاغی اور دالبندین میں ایئر مکس پلانٹ نصب کرنے کے حوالہ سے دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا ایئر مکس پلانٹ کے 6 پلانٹ لگنے تھے جب ان کی قیمت بتائی گئی تو ای سی سی نے 12 اپریل2018ءکے فیصلے کو ختم کر دیا اور آوران، بیلا اور گلگت بلتستان کے علاوہ باقی پلانٹس پر کام روک دیا ہے کہ ان کی قیمتوں کا دوبارہ جائزہ لیں۔ بلوچستان حکومت کو ان کی لاگت کی تجاویز بھی دیں گے اور مختلف آپشنز زیر بحث ہیں فیزبلیٹی بنائی جارہی ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے 6 جنوری2020 کو ہونے والے اجلاس میں واضح ہدایت دی تھی کی چاغی اور دالبندین ایئر مکس پلانٹ کے منصوبوں پر کام کیاجائے اور 10 دن میں اس حوالے سے لائحہ عمل دیا جائے مگر ابھی تک کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے دالبندین ایئر مکس پلانٹ کے حوالے سے بورڈ کے ساتھ میٹنگ کر کے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کی تھی مگر بھی تک کام نہیں ہوا۔

وزارت قائمہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ فراہم کرے تب تک معاملہ موخر کرتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس سینیٹر شمیم آفریدی، بہرا مند تنگی، میر محمد یوسف بادینی، تاج محمد آفریدی، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، میر کبیر احمد محمد شاہی کے علاوہ سیکرٹری پٹرولیم، ڈی جی پٹرولیم، چیئرپرسن اوگرا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حکام نے شرکت کی۔

وی  این ایس،   اسلام آباد