پشاور8 جون(اے پی پی): صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کا اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے زیر صدارت پیر کے زور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا ، اجلاس میں صوبے میں کورونا کی تازہ ترین صورتحال کے علاوہ سمارٹ لاک ڈاون اورمختلف شعبوں کے لئے صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آگے کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے مختلف تجاویز اور سفارشات پر تفصیلی غورو خوص کیا گیا ۔ صوبائی وزراءتیمور سلیم جھگڑا، شوکت یوسفزئی، وزیراعلیٰ کے مشیر اجمل وزیر کے علاوہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر ، متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں اور متعلقہ سول و عسکری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں کورونا مریضوں کے علاج معالجے کے حوالے سے صوبے کے خود مختار تدریسی ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ دیگر طبی اداروں کی استعداد کار کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اورفوری طور پر ان ہسپتالوں کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے مختلف تجاویز پر سیر حاصل گفتگو کرنے کے بعد متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔ اس موقع پر صوبے کے تمام تدریسی ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے بہتر علاج معالجے کے لئے یکساں پالیسی گائیڈ لائنز جاری کرنے جبکہ ان تدریسی ہسپتالوں کو مختلف سطح پر اپنی استعداد کار بڑھانے کے لئے ٹائم لائنز دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت کی کو ویڈ پالیسی پر بہتر انداز میں عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے محکمہ صحت اور ان تدریسی ہسپتالوں کے درمیان روابط اور اشتراک کار کو بہتر بنایا جائیگا۔ کورونا کیسز کے حوالے سے صوبے کے تدریسی ہسپتالوں کی ضروریات کو پوری کرنے کے لئے ان ہسپتالوں کو درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے متعلقہ حکام کو ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی بھی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ایک قابل عمل پلان تشکیل دیکر اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ صوبے کے ان تدریسی ہسپتالوں پر کورونا مریضوں کے رش کو کم کیا جا سکےں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ان تدریسی ہسپتالوں کی استعداد کار کو بڑھانے کے سلسلے میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے اگلے پیر کو ایک خصوصی اجلاس بلانے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس کے شرکاءکوصوبے کے تدریسی ہسپتالوں کے علاوہ دیگر ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لئے مختص سہولیات کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو صوبائی حکومت کی طرف سے مختلف شعبوں کے لئے جاری کردہ ایس او پیز اور سماجی فاصلوں کے اصولوں پر عملدرآمد کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔بعض شعبوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان ایس او پیز پر عملدرآمد کو ہر لحاظ سے یقینی بنانے پر زور دیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں نتیجہ خیز اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جن عوامی مقامات پر ان ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں ہورہا ان کو دوبارہ بند کر دیا جائے۔

ALSO READ  Health minister calls for enhanced awareness among youth on HIV

نیشنل کورآرڈینیشن کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلے کی روشنی میں صوبے میں سیاحت کے شعبے کو کھولنے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس سلسلے میں تمام شراکت داروں کی باہمی مشاورت سے ایس او پیز تیار کر لی گئی ہے تاہم ابھی اس شعبے کو باضابطہ طور پر کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سیاحت کے شعبے کو کھولنے سے قبل ان ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے ایک جامع پلان تشکیل دی جائے اور اس حوالے سے لوگوں کو آگاہی دینے کے لئے ایک وسیع پیمانے پر آگہی مہم شرو ع کی جائے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں انٹر ڈویژن پبلک ٹرانسپورٹ کو کھولنے کے لئے ایس او پیز کو حتمی شکل دی جارہی ہے جبکہ بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ کو کھولنے کے لئے ایس او پیز تیار کر لی گئی ہے تاہم بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کو کھولنے کا فیصلہ دیگر صوبوں کی باہمی مشاورت سے کیا جائیگا۔ فضائی سفر کے حوالے سے اجلاس کو بتا یا گیا کہ مخصوص ایس او پیز کے تحت پشاور ائیرپورٹ کے لئے بین الاقوامی پروازیں بحال کر دی گئی ہےںاور پشاور ائیر پورٹ کے لئے ہفتے میں 48 بین الاقوامی پروازوں کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے جس میں مزید اضافہ بھی کیا جائیگا۔ کورونا وباءکی وجہ سے خلیجی ممالک میں پھنسے خیبرپختونخوا کے شہریوں کو باحفاظت وطن واپسی کو صوبائی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سلسلے میں صوبائی اور وفاقی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیںجبکہ وہاں پر کورونا سے شہید ہونے والوں کے جسد خاکی وطن واپس لانے کے لئے خصوصی تیاریوں کا انتظام کیا گیا ۔ اجلاس میں جن علاقوں میں کورونا کے زیادہ کیسز سامنے آرہے ہیں ان مخصوص علاقوں میں لاک ڈاو ¿ن کرنے اور سرکاری سطح پر کورنٹائن کی بجائے ہوم اور کمیونٹی کورنٹائن کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں ایس او پیز پر عملدرآمد کے سلسلے میں پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے کردار کی تعریف بھی کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاک فوج جس طریقے سے سول انتظامیہ کی مدد کر رہی ہے وہ قابل تحسین ہے اور صوبائی حکومت پاک فوج کے اس کردار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

ALSO READ  Exports increases to $ 2.156 billion in Nov, 2020: Dawood

وی  این ایس، پشاور