اسلام آباد ، 9 جون (اے پی پی): ایوان بالاءکی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد اسد علی خان جونیجو کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ریلویز کی طرف سے مسافروں اور محکمہ ریلوے کے ملازمین کیلئے کورونا وائرس کی وباءسے بچاوکیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے علاوہ سینیٹر مشاہد اللہ خان کے 31 اکتوبر 2019ءکو پیش آنے والے تیزگام کے حادثہ کے نتیجہ میں زخمیوں اور جاں بحق افراد کو دیئے گئے معاوضہ کے حوالہ سے عوامی اہمیت کے معاملہ کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

قائمہ کمیٹی نے کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے شہید ہونے والے افراد کیلئے دعائے مغفرت اور متاثرین کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ قائمہ کمیٹی نے سیکرٹری ریلوے کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

 چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد اسد علی خان جونیجو نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اس وبا سے بچاوکیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہم سب کا فرض ہے اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہے اس کا بہترین علاج ہے۔ قائمہ کمیٹی کو وزارت ریلوے کی طرف سے مسافروں اور ملازمین کی کورونا سے بچاوکیلئے اٹھائے گئے اقدامات بارے حکام نے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔

 کمیٹی کو بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے 19 مارچ کو 5 مسافرٹرینیں بند کی گئیں، 20 مارچ کو 21 اور 31 مارچ کو تمام مسافر ٹرینیں بند کر دی گئیں۔ حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے 20 مئی کو 15 ٹرینیں بحال کی گئیں اور یکم جون سے تمام مسافر ٹرینیں بحال کر دی گئیں تاکہ مسافروں کو سفر کی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور اس کیلئے متعدد حفاظتی اقدامات کئے گے جن میں سے ٹرین میں بیٹھنے کی 100 فیصد استعداد کو کم کرکے60 فیصد تک محدود کیا گیا، سیٹیوں کے درمیان 4 فٹ کا فاصلہ رکھا گیا اور کل 25 ریلوے سٹیشن کھولے گئے۔

کمیٹی کو  بتایا گیا کہ  ریلوے سٹیشن میں صرف ٹکٹ والوں کا داخلہ رکھا اور مناسب سٹاف کو بلایا گیا، ہر سٹیشن میں میڈیکل سٹاف اور ٹرین میں ایک آئسولیشن ڈیپارٹمنٹ رکھا گیا۔ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں پر جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے اور رش سے بچنے کیلئے آن لائن بکنگ کرائی گئی ہے۔ ٹرین میں داخل اور نکلنے کیلئے علیحدہ دروازے مخصوص کیے گئے ہیں۔ٹرین میں کھانے کی سہولت بھی بند کر دی گئی ہے اور لوگوں کے روزگار کو مد نظر رکھتے ہوئے ریلوے اسٹیشن پر کچھ سٹال کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سیکرٹری ریلوے نے باہمی تعاون اور لوگوں کو وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے صوبوں کو خطوط بھی لکھے اور صوبوں نے بھی بھرپور تعاون کیا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت ریلوے کی طرف سے کورونا وباءکے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔

 چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد اسد علی خان جونیجوکے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ کارگو سائیڈ پر بھی وہی ایس او پیز اختیار کیے گئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کارگو سائیڈ کی مزید مانیٹرنگ بہتر کرنے اور ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت ریلوے میں کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے تین افراد کی اموات ہوئیں اور 50 ملازمین وبا کا شکار ہوئے۔رکن کمیٹی سینیٹر سردار محمد شفیق ترین نے کہا کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں سبی سیکشن کی پیش رفت رپوٹ بارے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔

سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی نے کہاکہ کوئٹہ تفتان ٹریک پہلے سے بنا ہوا ہے اس پر ٹرین سروس فراہم کرنے کے حوالے سے کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں آگاہ کیا جائے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس منصوبے پر مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے اور اس کیلئے مشاورت کی جار ہی ہے۔قائمہ کمیٹی نے کوئٹہ چمن ٹریک کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔سانحہ تیز گام کے متاثرین کو معاوضے کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس حادثے میں 34 افراد زخمی ہوئے جنہیں 50 ہزار سے 3 لاکھ کامعاوضہ دیا گیا اور اس مد میں 2 کروڑ روپے دیئے گئے ہیں۔تیز گام حادثے میں 74 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے68 افراد کے لواحقین کو 15 لاکھ فی کس کے حساب سے 10 کروڑ امداد دی گئی ہے اور صرف6 افراد کے لواحقین باقی ہیں جن میں سے 2 افراد کے لواحقین مل نہیں سکے اور 4 افراد کے لواحقین ضروری کاغذات دے کر امداد حاصل کر سکیں گے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد اسد علی خان جونیجونے کہا کہ محکمہ ریلوے نے بھی متاثرین کو امداد دینے کا کہا تھا اس پر کتنا عملدرآمد کیا گیا ہے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ لواحقین کولائف انشورنس کی مد سے معاوضہ دیا گیا ہے۔ وزارت ریلوے نے امداد فراہم نہیں کی۔ چیئرمین کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اس کی تفصیلات طلب کر لیں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، عطاءالرحمنِ اور سردار محمد شفیق ترین کے علاوہ وزارت ریلوے کے حکام نے شرکت کی۔

وی  این ایس،   اسلام آباد