| 969 میگاواٹ نیلم، جہلم ہائیدرو الیکٹرک پراجیکٹ کا سنگ بن |
| Sunday, 03 February 2008 | |
|
969 میگاواٹ نیلم، جہلم ہائیدرو الیکٹرک پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رواں ہفتے رکھا جائے گا، دیامیر بھاشا ڈیم کے تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن اگلے 2 ماہ میں مکمل ہو جا ئیں گے منصوبے کی تکمیل پر 4500 میگا واٹ بجلی بھی حاصل ہوگی ۔ طارق حمید
اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے اعلان کردہ 5 بڑے آبی ذخائر خصوصاً دیامیر، بھاشا ڈیم کے علاوہ پن بجلی کے دیگر منصوبوں کے لئے مشاورتی اداروں کے نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس سے خطاب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ نیلم، جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جس پر کام کے آغاز سے نہ صرف دریائے نیلم کے پانی پر پاکستان کا حق فائق ہو جائے گا بلکہ اس سے ملک کے اندر بجلی کی مجموعی پیداوار میں سستی پن بجلی کے تناسب کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اپنی تکمیل پر قومی نظام کو تقریباً 5 ہزار 150 گیگا واٹ آور بجلی فراہم کرے گی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ 2009ءمیں پن بجلی کے 11 بڑے منصوبے تعمیراتی کام کے آغاز کے لئے دستیاب ہوں گے۔ ان منصوبوں کی مجموعی پیداواری صلاحیت 12 ہزار میگا واٹ سے زائد ہوگی۔ ان منصوبوں میں بونجی 5400 میگا واٹ، داسو 4000 میگا واٹ، کوہالہ 1100 میگا واٹ، سپت گاہ اور پالاس ویلی 1230 میگاواٹ اور دیگر ہائیدرو پاور پراجیکٹس شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ دیامیر، بھاشا ڈیم کے تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن اگلے 2 ماہ تک مکمل ہو جائیں گے اور ٹینڈر دستاویزات کی تیاری کے بعد پراجیکٹ کی تعمیر کے لئے ٹینڈر طلب کئے جائیں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بین الاقوامی مسابقت کے ذریعے کنٹریکٹ ایوارڈ کئے جانے کے بعد دیامیر، بھاشا ڈیم پر باقاعدہ تعمیراتی کام 2009ءمیں شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی مقاصد کے لئے پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ پراجیکٹ ساڑھے چار ہزار میگاواٹ پن بجلی بھی پیدا کرے گا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارت پانی و بجلی نے پٹرولیم اور قدرتی وسائل کی وزارت اور حکومت سندھ کی مشاورت سے مستقبل میں تھر کے اندر واقع کوئلے کے ذخائر سے زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے لئے حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی طور پر واپڈا کو تھر کے کوئلے سے ایک ہزار میگاواٹ صلاحیت کے منصوبے تعمیر کرنے کا کام سونپا گیا ہے جبکہ اسی نوعیت کے 2 ہزار میگا واٹ صلاحیت کے منصوبے نجی شعبہ میں قائم کئے جائیں گے۔ |